الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: يَا هَنْتَاهُ باب: کسی آدمی کا کسی کو يَا هَنْتَاهُ کہہ کر پکارنا
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْدَفَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ؟“ قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: ”هِيهِ“، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ بَيْتٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا اور فرمایا: ”کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں! پھر میں نے ایک بیت پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سو شعر سنائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اشعار اگر حکمت پر مبنی ہوں اور ان میں شرک اور بے حیائی نہ ہو تو انہیں سننا اور سنانا جائز ہے، تاہم شعروں کی کثرت خواہ اچھے ہی ہوں مذموم ہے۔
اشعار اگر حکمت پر مبنی ہوں اور ان میں شرک اور بے حیائی نہ ہو تو انہیں سننا اور سنانا جائز ہے، تاہم شعروں کی کثرت خواہ اچھے ہی ہوں مذموم ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 799 سے ماخوذ ہے۔