الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: يَا هَنْتَاهُ باب: کسی آدمی کا کسی کو يَا هَنْتَاهُ کہہ کر پکارنا
حدیث نمبر: 797
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا هِيَ؟ يَا هَنْتَاهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ حمنیٰ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ اے ہنتاہ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ہنتاہ کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی یا ہذہ کیے ہیں، یعنی اے فلاں عورت۔ اور مرد کے لیے یا ہناہ بولا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی کم عقل کے ہیں۔ بعض کے نزدیک مطلق عورت کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ہنتاہ کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی یا ہذہ کیے ہیں، یعنی اے فلاں عورت۔ اور مرد کے لیے یا ہناہ بولا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی کم عقل کے ہیں۔ بعض کے نزدیک مطلق عورت کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 797 سے ماخوذ ہے۔