الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ باب: انگور کو کرم کہنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ: الْكَرْمَ، وَقُولُوا الْحَبَلَةَ“، يَعْنِي: الْعِنَبَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز اس طرح نہ کہے: کرم، بلکہ تم کہو حبلہ، یعنی عنب۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ انگور کو ’’کرم‘‘ کا نام نہ دو بلکہ اسے حبلہ یا عنب کہا کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ کرم تو مومن کا دل ہوتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھے، حدیث ۷۷۰)
مطلب یہ ہے کہ انگور کو ’’کرم‘‘ کا نام نہ دو بلکہ اسے حبلہ یا عنب کہا کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ کرم تو مومن کا دل ہوتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھے، حدیث ۷۷۰)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 795 سے ماخوذ ہے۔