الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَنِّي باب: مکروہ نا پسندیدہ تمنائیں
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا يُعْطَى.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آرزو کرے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا آرزو کر رہا ہے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیا دیا جائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم اچھی آرزو اور تمنا مستحب امر ہے جیسا کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم اچھی آرزو اور تمنا مستحب امر ہے جیسا کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 794 سے ماخوذ ہے۔