حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ‏:‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا‏:‏ هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ شِعْرًا قَطُّ‏؟‏ فَقَالَتْ‏:‏ أَحْيَانًا، إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ يَقُولُ‏:‏ ”وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا آپ نے کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر کہتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: بسا اوقات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوتے تو یہ شعر پڑھتے: ”تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 792
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الترمذي ، كتاب الأدب : 2848 - انظر الصحيحة : 2057»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ شعر طرفہ بن عبد کا ہے جس کا ابتدائی حصہ یوں ہے:ستبدی لک الأیام ما کنت جاہلاً....ویأتیك بالأخبار من لم تزود۔ مطلب یہ ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں جن سے انسان بے خبر ہوتا ہے اور ایسا زمانہ آئے گا کہ خبروں کا سراغ لگائے بغیر ہی خبریں انسان کو معلوم ہو جائیں گی۔ آج شوشل اور الیکٹرانک میڈیا نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ گھر بیٹھے انسان کو پوری دنیا کی خبریں پہنچتی ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 792 سے ماخوذ ہے۔