حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ بِجَمْعٍ مِنَ الْمَجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانَ يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ ثَمَرَهَا، كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ. يَعْنِي بِالْكُوبَةِ: النَّرْدَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی مجمع میں تھے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ شطرنج کھیلتے ہیں۔ وہ وہاں سے بڑی سختی سے منع کرتے ہوئے غضبناک ہو کر اٹھے، پھر فرمایا: خبردار! شطرنج کھیلنے والا تاکہ اس کی کمائی کھائے، خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور اس کے خون کے ساتھ وضو کرنے والے کی طرح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس کی سند ضعیف ہے، تاہم جو اکھیلنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں اس کو رجس اور شیطانی کام کہا گیا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہر علاقے میں رائج ہیں اور تمام کی تمام ہی حرام ہیں۔ شطرنج بھی اس کی ایک قسم ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے، تاہم جو اکھیلنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں اس کو رجس اور شیطانی کام کہا گیا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہر علاقے میں رائج ہیں اور تمام کی تمام ہی حرام ہیں۔ شطرنج بھی اس کی ایک قسم ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 788 سے ماخوذ ہے۔