حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّهْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَفْشُوا السَّلاَمَ تَسْلَمُوا، وَالأشَرَةُ شَرٌّ“، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: وَالأَشَرُ: الْعَبَثُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، سلامتی سے رہو گے، اور فضول بات شر ہے۔“ ابو معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اشر کے معنی عبث کے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ سلام پھیلاؤ، خواہ تمہیں کوئی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو کیونکہ یہ باہمی محبت و الفت کا سبب ہے۔ اس سے نفرت دور ہوتی ہے اور انسان قطع تعلقی سے بھی بچا رہتا ہے۔ ایک حدیث میں سلام عام کرنے کو دخول جنت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فضول گوئی سے شر پھیلتا ہے اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔
مطلب یہ ہے کہ سلام پھیلاؤ، خواہ تمہیں کوئی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو کیونکہ یہ باہمی محبت و الفت کا سبب ہے۔ اس سے نفرت دور ہوتی ہے اور انسان قطع تعلقی سے بھی بچا رہتا ہے۔ ایک حدیث میں سلام عام کرنے کو دخول جنت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فضول گوئی سے شر پھیلتا ہے اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 787 سے ماخوذ ہے۔