حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ [لقمان: 6]، قَالَ: الْغِنَاءُ وَأَشْبَاهُهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت مبارکہ «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ» [لقمان: 6] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد گانا بجانا اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
لہو الحدیث سے مراد ہر وہ چیز اور کلام ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے۔ عصر حاضر میں گانا بجانا، فلم اور ڈراموں سے بڑھ کر کون سی چیز ہوسکتی ہے جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرے۔ اس لیے سید المفسرین ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے گانا مراد لیا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، مجاہد، حسن بصری وغیرہ اکثر مفسرین نے اس سے گانا ہی مراد لیا ہے اور صحابہ و تابعین کا فہم کفار کے نقش قدم پر چلنے والے جدت پسندوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
لہو الحدیث سے مراد ہر وہ چیز اور کلام ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے۔ عصر حاضر میں گانا بجانا، فلم اور ڈراموں سے بڑھ کر کون سی چیز ہوسکتی ہے جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرے۔ اس لیے سید المفسرین ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے گانا مراد لیا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، مجاہد، حسن بصری وغیرہ اکثر مفسرین نے اس سے گانا ہی مراد لیا ہے اور صحابہ و تابعین کا فہم کفار کے نقش قدم پر چلنے والے جدت پسندوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 786 سے ماخوذ ہے۔