حدیث نمبر: 782
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ‏:‏ سَمِعْتُ مُغِيثًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَأَلَهُ‏:‏ مَنْ مَوْلاَهُ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ اللَّهُ وَفُلاَنٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ‏:‏ لاَ تَقُلْ كَذَلِكَ، لاَ تَجْعَلْ مَعَ اللهِ أَحَدًا، وَلَكِنْ قُلْ‏:‏ فُلاَنٌ بَعْدَ اللهِ‏.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

مغیث رحمہ اللہ سے روایت ہے، ان کا خیال ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ان کے آقا کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: اللہ ہے اور فلاں ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایسے مت کہو، اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بناؤ، بلکہ اس طرح کہو: اللہ تعالیٰ کے بعد فلان آقا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف موقوف
تخریج حدیث «ضعيف موقوف : الصحيحة تحت رقم : 138 - ن»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے تاہم دیگر صحیح دلائل سے ثابت ہے کہ مخلوق کا تذکرہ اس انداز سے کرنا کہ خالق کی برابری کا شبہ ہو، ناجائز اور حرام ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 782 سے ماخوذ ہے۔