الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ إِذَا طَلَبَ فَلْيَطْلُبْ طَلَبًا يَسِيرًا وَلا يَمْدَحُهُ باب: جب کوئی شخص کسی سے کچھ طلب کرے تو عام انداز میں مانگے اور تعریف نہ کرے
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عَزَّةَ يَسَارِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهُذَلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ، جَعَلَ لَهُ بِهَا - أَوْ: فِيهَا - حَاجَةً.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو عزہ یسار بن عبداللہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کسی زمین میں فوت کرنا چاہتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت رکھ دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حاجت یا طلب جس جگہ یا شخص کے پاس ہو وہاں سے طلب کرسکتا ہے اور ایسا ضرور ہوکر رہتا ہے لیکن اسے چاہیے کہ اچھا اور جائز ذریعہ اختیار کرے۔ جو اس کے مقدر میں ہوگا اسے ضرور مل کر رہے گا۔
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حاجت یا طلب جس جگہ یا شخص کے پاس ہو وہاں سے طلب کرسکتا ہے اور ایسا ضرور ہوکر رہتا ہے لیکن اسے چاہیے کہ اچھا اور جائز ذریعہ اختیار کرے۔ جو اس کے مقدر میں ہوگا اسے ضرور مل کر رہے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 780 سے ماخوذ ہے۔