حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْنِيَ النَّاسُ بُيُوتًا يُوشُونَهَا وَشْيَ الْمَرَاحِيلِ“، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَعْنِي الثِّيَابَ الْمُخَطَّطَةَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ اپنے گھروں کو مراحیل کی طرح نہ بنالیں۔“ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے دھاری دار چادروں کی طرح۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی کہ آج جس طرح کے گھر بنائے جا رہے ہیں اور ان کے اندر جو تزئین و آرائش ہے وہ قیامت کی واضح علامات میں سے ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث:۴۵۹ کے فوائد۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی کہ آج جس طرح کے گھر بنائے جا رہے ہیں اور ان کے اندر جو تزئین و آرائش ہے وہ قیامت کی واضح علامات میں سے ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث:۴۵۹ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 777 سے ماخوذ ہے۔