الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ: وَيْلَكَ باب: کسی کو ”ويلك“ کہنے کا حکم
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ، وَكَانَ اسْمُهُ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ، فَهَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”مَا اسْمُكَ؟“ قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ: ”بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ“، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: ”لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرٌ كَثِيرٌ“ ثَلاَثًا، فَمَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: ”لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا“ ثَلاَثًا، فَحَانَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَرَأَى رَجُلاً يَمْشِي فِي الْقُبُورِ، وَعَلَيْهِ نَعْلاَنِ، فَقَالَ: ”يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ“، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَرَمَى بِهِمَا.سیدنا بشیر بن معبد سدوسی رضی اللہ عنہ، جن کا نام زحم بن معبد تھا سے روایت ہے کہ وہ ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: زحم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا نام (آج کے بعد) بشیر ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یقیناً ان لوگوں سے بہت زیادہ خیر چھوٹ گئی ہے۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”انہوں نے یقیناً خیر کثیر پالی ہے۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ قبرستان میں جوتے پہنے ہوئے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبتیہ جوتے پہننے والے، اپنے جوتے اتار دو۔“ چنانچہ اس آدمی نے دیکھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نظر آئے تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(۱)اس روایت کا بظاہر باب سے کوئی تعلق نہیں۔ ابو داود (۳۲۳۰)کی روایت میں ہے ’’ویحک الق سبتیتیک‘‘ تیرے لیے بربادی ہو اپنے سبتی جوتے اتار دے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے ویحک والی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(۲) بہتر اور افضل یہ ہے کہ قبرستان میں جوتے اتار دیے جائیں جیسا کہ آپ نے اس شخص کو حکم دیا، تاہم اگر کوئی پہن لیتا ہے تو اس کی گنجائش بھی موجود ہے کیونکہ آپ سے قبرستان میں جوتے پہننے بھی صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ گویا نہی تنزیہی ہے اور فعل جواز کے لیے ہے۔
(۳) اس روایت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مسلمان کو ایک ساتھ نہیں دفنانا چاہیے۔ بلکہ مسلم اور غیر مسلم کا قبرستان الگ الگ ہونا چاہیے۔
(۴) جس نام کے معنی سے کسی بدشگونی کا خدشہ ہو یا بولنے کے اعتبار سے وہ نام مناسب نہ ہو تو اسے بدل دینا چاہیے، تاہم ہر نو مسلم کا نام بدلنا ضروری نہیں ہے بشرطیکہ وہ شرکیہ نہ ہو۔
(۵) بعض نے سبتی اور دوسرے جوتوں کا فرق کیا ہے لیکن اس فرق کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے