الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ لَا يُحِدُّ الرَّجُلُ إِلَى أَخِيهِ النَّظَرَ إِذَا وَلَّى باب: کوئی شخص اپنے بھائی کو تیز نظروں سے نہ دیکھے جب وہ واپس جائے
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: يُكْرَهُ أَنْ يُحِدَّ الرَّجُلُ إِلَى أَخِيهِ النَّظَرَ، أَوْ يُتْبِعَهُ بَصَرَهُ إِذَا وَلَّى، أَوْ يَسْأَلَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ، وَأَيْنَ تَذْهَبُ؟.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: کسی شخص کا اپنے بھائی کو تیز نظروں سے دیکھنا، یا جب وہ جانے لگے تو اس کے پیچھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا ناپسندیدہ ہے۔ اسی طرح یہ تفصیل دریافت کرنا بھی ناپسندیدہ ہے کہ تم کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم راوی ضعیف ہے۔
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم راوی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 771 سے ماخوذ ہے۔