حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ سَأَلَ ابْنُ الْكَوَّاء عَلِيًّا عَنِ الْمَجَرَّةِ، قَالَ: هُوَ شَرَجُ السَّمَاءِ، وَمِنْهَا فُتِحَتِ السَّمَاءُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو طفیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن الکواء نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مجرہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: وہ آسمان کا درہ ہے، اسی درے سے (قوم نوح پر) زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کھول دیا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مجرہ وہ سفیدی ہے جو آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور اس کے دونوں جانب روشنی ہوتی ہے۔
مجرہ وہ سفیدی ہے جو آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور اس کے دونوں جانب روشنی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 766 سے ماخوذ ہے۔