الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا زُكِّيَ باب: جب کسی کی پارسائی بیان کی جائے تو وہ کیا کہے
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ قَالَ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي ”زَعَمُوا؟“ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ“، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے ابو مسعود! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلمہ ”زعموا“ (ان کا خیال ہے) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ کلمہ آدمی کی بدترین سواری ہے۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت میں مسلمان پر لعنت کرنے کی شناعت کا ذکر ہے کہ جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہیں تو اس کا گناہ قتل کے برابر ہے۔
اس روایت میں مسلمان پر لعنت کرنے کی شناعت کا ذکر ہے کہ جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہیں تو اس کا گناہ قتل کے برابر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 763 سے ماخوذ ہے۔