الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: هَلَكَ النَّاسُ باب: کسی آدمی کا کہنا کہ لوگ ہلاک ہو گئے
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ: هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے، تو وہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص لوگوں پر طعن کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا اور کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہوگیا ہے۔ یہاں بہتری نہیں آسکتی وغیرہ تو ایسا شخص خود سب سے بڑا گمراہ اور تباہی کی طرف جانے والا ہے کیونکہ ایک تو خود پسندی کا شکار ہے اور اپنے آپ کو پارسا سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر اور گنہگار گردانتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ خود کرنے سے منع کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ مایوسی پھیلا رہا ہے کہ اب کوئی اچھا بندہ نہیں رہا۔ اس کا نقد اصلاح کے لیے نہیں بلکہ مایوسی کے لیے ہے حقیقت یہ ہے کہ ایسا شخص خود سب سے بڑا بد عمل ہوتا ہے۔
(۲) یہ اس وقت منع ہے جب اپنی پارسائی اور لوگوں میں مایوسی پھیلانے کے لیے ہو۔ تاہم اگر کوئی لوگوں کی حالت زار دیکھ کر کڑھتا ہے اور دلی درد کا اظہار کرتا ہے اور خود با عمل ہے تو پھر ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱)اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص لوگوں پر طعن کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا اور کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہوگیا ہے۔ یہاں بہتری نہیں آسکتی وغیرہ تو ایسا شخص خود سب سے بڑا گمراہ اور تباہی کی طرف جانے والا ہے کیونکہ ایک تو خود پسندی کا شکار ہے اور اپنے آپ کو پارسا سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر اور گنہگار گردانتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ خود کرنے سے منع کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ مایوسی پھیلا رہا ہے کہ اب کوئی اچھا بندہ نہیں رہا۔ اس کا نقد اصلاح کے لیے نہیں بلکہ مایوسی کے لیے ہے حقیقت یہ ہے کہ ایسا شخص خود سب سے بڑا بد عمل ہوتا ہے۔
(۲) یہ اس وقت منع ہے جب اپنی پارسائی اور لوگوں میں مایوسی پھیلانے کے لیے ہو۔ تاہم اگر کوئی لوگوں کی حالت زار دیکھ کر کڑھتا ہے اور دلی درد کا اظہار کرتا ہے اور خود با عمل ہے تو پھر ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 759 سے ماخوذ ہے۔