حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَ‏:‏ جَاءَ قَوْمٌ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فَقَالُوا‏:‏ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ وَيَفْعَلُونَ، أَفَنَرْفَعُهُمْ إِلَى الإِمَامِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ لاَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ رَأَى مِنْ مُسْلِمٍ عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابو الہیثم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پوچھا: ہمارے ہمسائے شراب پیتے ہیں اور ایسے ویسے کام کرتے ہیں۔ کیا ہم امام کو ان کی شکایت لگائیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی مسلمان کا کوئی عیب دیکھا، اور اس کو چھپا دیا اور کسی پر ظاہر نہ کیا، تو وہ ایسے ہے گویا اس نے زندہ درگور کی گئی لڑکی کو قبر سے نکال کر زندہ کر دی ہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 758
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى الستر على المسلم : 4891 - انظر صحيح الترغيب : 2337»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم پردہ پوشی کے متعلق بہت سی روایات ثابت ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 758 سے ماخوذ ہے۔