الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: فُلانٌ جَعْدٌ، أَسْوَدُ، أَوْ طَوِيلٌ، قَصِيرٌ، يُرِيدُ الصِّفَةَ وَلَا يُرِيدُ الْغِيبَةَ باب: اگر کوئی کہے کہ فلاں گھنگریالے بالوں والا، کالا، یا لمبا، یا پست قد ہے، اور اس کا مقصد تعارف کروانا ہو، غیبت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ لَيْلَةَ جَمْعٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَأَذِنَ لَهَا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مزدلفہ کی رات سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے (منیٰ کی طرف) جلدی جانے کی اجازت طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کیونکہ وہ بھاری بھرکم اور سست خاتون تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
امام بخاری بتانا چاہتے ہیں کسی کا تعارف کرواتے ہوئے اس کا وصف لازم بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کی تحقیر مقصود نہ ہو، خصوصاً جب اس پر کسی شرعی مسئلے کا دارومدار ہو تو وہ صفت بیان کرنا لازمی ہے۔
امام بخاری بتانا چاہتے ہیں کسی کا تعارف کرواتے ہوئے اس کا وصف لازم بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کی تحقیر مقصود نہ ہو، خصوصاً جب اس پر کسی شرعی مسئلے کا دارومدار ہو تو وہ صفت بیان کرنا لازمی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 756 سے ماخوذ ہے۔