الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: فُلانٌ جَعْدٌ، أَسْوَدُ، أَوْ طَوِيلٌ، قَصِيرٌ، يُرِيدُ الصِّفَةَ وَلَا يُرِيدُ الْغِيبَةَ باب: اگر کوئی کہے کہ فلاں گھنگریالے بالوں والا، کالا، یا لمبا، یا پست قد ہے، اور اس کا مقصد تعارف کروانا ہو، غیبت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ“، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ؟ فَقَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔“ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خندہ پیشانی سے ملے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت استفسار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فحش گو اور بد زبان کو پسند نہیں کرتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بد زبان کے ساتھ بھی بد زبانی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جہالت کا جواب اگر جہالت کے ساتھ دیا جائے تو پھر اچھے اور برے کا فرق ختم ہو جاتا ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے کسی بندے کی حقیقت بیان کرنا تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں، غیبت نہیں بلکہ جائز امر ہے اور کبھی ایسا کرنا فرض ہوتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بد زبان کے ساتھ بھی بد زبانی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جہالت کا جواب اگر جہالت کے ساتھ دیا جائے تو پھر اچھے اور برے کا فرق ختم ہو جاتا ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے کسی بندے کی حقیقت بیان کرنا تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں، غیبت نہیں بلکہ جائز امر ہے اور کبھی ایسا کرنا فرض ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 755 سے ماخوذ ہے۔