حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو : ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالْعَفَافَ ، وَالْغِنَى.“ وَقَالَ أَصْحَابُنَا ، عَنْ عَمْرٍو : ”وَالتُّقَى.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پاک دامنی اور مال داری کا سوال کرتا ہوں۔“ ہمارے اصحاب نے عمرو کے طریق سے «وَالتقَى» ”اور تقوے کا سوال کرتا ہوں“ کا اضافہ نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الذكر و الدعاء : 2721 و الترمذي : 3489 و ابن ماجة : 3832»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذکر ہے۔ اس میں مکارم اخلاق اور معاش کے سوال کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور پرہیزگاری کا سوال ہے۔ پاک دامنی سے مراد دنیاوی حرص و لالچ کے ساتھ ساتھ دیگر معاصی سے بچنا بھی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 674 سے ماخوذ ہے۔