الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دَعَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَالْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما۔ اور تو میرے ان گناہوں کو بھی بخش دے جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ بلاشبہ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ تمام ظاہر اور پوشیدہ امور کو جاننے والا ہے اور وہی گناہوں کو بخشتا ہے۔ عروج اور زوال دینے والا بھی وہی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام ظاہر اور پوشیدہ امور کو جاننے والا ہے اور وہی گناہوں کو بخشتا ہے۔ عروج اور زوال دینے والا بھی وہی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔