حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَمَانِينَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ“، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ‏:‏ يَعْنِي مَوْضِعًا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسّی سال بعد ختنہ کیا۔ یہ ختنہ مقام قدوم پر انہوں نے خود کیا۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: قدوم (سے بسولا نہیں) جگہ مراد ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الختان / حدیث: 1244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الاستئذان : 6298 و مسلم : 2370»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ختنہ کرانا فطری امور میں سے ہے۔ اور یہ امور حکم کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے ختنہ کرنا فرض ہے اور نہ کرنے والا مجرم اور گناہ کا مرتکب ہوگا۔
(۲) ختنہ کرنے کی عمر متعین نہیں، تاہم بلوغت سے پہلے کرنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی بڑی عمر میں مسلمان ہوتا ہے تو اس کے لیے اسی عمر میں ختنہ ضروری ہوگا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1244 سے ماخوذ ہے۔