حدیث نمبر: 1243
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونًا يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا: هَلْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَدْعُو لِلْمَأْدُبَةِ؟ قَالَ: لَكِنَّهُ انْكَسَرَ لَهُ بَعِيرٌ مَرَّةً فَنَحَرْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: احْشُرْ عَلَيَّ الْمَدِينَةَ، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ؟ لَيْسَ عِنْدَنَا خُبْزٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، هَذَا عُرَاقٌ، وَهَذَا مَرَقٌ، أَوْ قَالَ: مَرَقٌ وَبَضْعٌ، فَمَنْ شَاءَ أَكَلَ، وَمَنْ شَاءَ وَدَعَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
میمون بن مہران رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کھانے کی دعوت میں لوگوں کو بلاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ (عام دستور نہیں تھا البتہ) ایک دفعہ ان کے ایک اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو ہم نے اس کا نحر کیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: مدینہ والوں کو جمع کرو۔ نافع کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کس چیز پر انہیں بلاؤں؟ ہمارے پاس روٹی تو ہے نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے۔ یہ ہڈیاں اور یہ شوربہ ہے یا فرمایا: شوربہ اور گوشت ہے جو چاہے گا کھا لے گا اور جو چاہے گا چھوڑ دے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مادبہ بغیر سبب دعوت کو کہتے ہیں۔ نافع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگرچہ اس کا عام دستور نہیں تھا، تاہم کبھی ایسے بھی ہوتا تھا اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز جتنا انسان کے پاس ہو اس کی دعوت کرلینے میں کوئی حرج نہیں تکلف کی ضرورت نہیں۔ اور کھانے والوں کو بھی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔
مادبہ بغیر سبب دعوت کو کہتے ہیں۔ نافع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگرچہ اس کا عام دستور نہیں تھا، تاہم کبھی ایسے بھی ہوتا تھا اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز جتنا انسان کے پاس ہو اس کی دعوت کرلینے میں کوئی حرج نہیں تکلف کی ضرورت نہیں۔ اور کھانے والوں کو بھی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1243 سے ماخوذ ہے۔