حدیث نمبر: 1242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: نَوْمُ أَوَّلِ النَّهَارِ خُرْقٌ، وَأَوْسَطُهُ خُلْقٌ، وَآخِرُهُ حُمْقٌ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
خوات بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دن کے پہلے حصے کی نیند جہالت، درمیان حصے میں سونا اچھی عادت، اور آخری حصے میں سونا حماقت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
صبح کے وقت کام کاج تیزی سے ہوتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ میری امت کی صبح میں برکت فرما۔ دوپہر کو سونے سے رات کو تہجد پڑھنے میں مدد ملتی ہے، اور دن کا آخری حصے میں لین دین اور خرید و فروخت زوروں پر ہوتی ہے اس لیے اس وقت سونا یقیناً حماقت ہے۔
صبح کے وقت کام کاج تیزی سے ہوتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ میری امت کی صبح میں برکت فرما۔ دوپہر کو سونے سے رات کو تہجد پڑھنے میں مدد ملتی ہے، اور دن کا آخری حصے میں لین دین اور خرید و فروخت زوروں پر ہوتی ہے اس لیے اس وقت سونا یقیناً حماقت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1242 سے ماخوذ ہے۔