الادب المفرد
كتاب المجالس— كتاب المجالس
بَابُ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَقْعُدْ فِيهِ باب: جب کوئی آدمی مجلس سے اٹھ کر جگہ دے تو اس کی جگہ پر نہ بیٹھے
حدیث نمبر: 1153
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلَ مِنَ الْمَجْلِسِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ. ¤ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھائے اور پھر خود وہاں بیٹھ جائے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اگر کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھنا دوسرے کی حق تلفي ہے اس لیے آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا بلکہ حکم دیا کہ مجلس میں وسعت پیدا کرلیا کرو۔ اگر کوئی از خود جگہ دے تو احتیاط کے پیش نظر وہاں بھی نہ بیٹھا جائے کیونکہ اٹھانا کبھی زبان سے کہہ کر ہوتا ہے اور کبھی مقام و مرتبہ کا رعب بھی اس کا سبب بنتا ہے اس لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اگر کوئی نشست چھوڑتا تو بھی وہاں نہ بیٹھتے۔
کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھنا دوسرے کی حق تلفي ہے اس لیے آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا بلکہ حکم دیا کہ مجلس میں وسعت پیدا کرلیا کرو۔ اگر کوئی از خود جگہ دے تو احتیاط کے پیش نظر وہاں بھی نہ بیٹھا جائے کیونکہ اٹھانا کبھی زبان سے کہہ کر ہوتا ہے اور کبھی مقام و مرتبہ کا رعب بھی اس کا سبب بنتا ہے اس لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اگر کوئی نشست چھوڑتا تو بھی وہاں نہ بیٹھتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1153 سے ماخوذ ہے۔