حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ، إِلا بِإِذْنِهِمَا‏.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ (مل کر بیٹھے ہوئے) دو آدمیوں کے درمیان (بیٹھ کر) جدائی ڈالے۔ مگر ان کی اجازت سے بیٹھ سکتا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المجالس / حدیث: 1142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 4845 و الترمذي : 2752»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دو آدمی اگر اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان آکر گھس جانا ادب کے منافي ہے۔ ممکن ہے وہ کوئی خفیہ بات کر رہے ہوں یا ایک ساتھ بیٹھنا چاہتے ہوں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1142 سے ماخوذ ہے۔