حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جب تم میں سے کوئی اپنی مجلس سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المجالس / حدیث: 1138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب السلام : 2179 و أبوداؤد : 4853 و ابن ماجه : 3717»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کوئی شخص اگر مجلس سے اٹھ کر واپس آنے کی نیت اور ارادے سے جاتا ہے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے۔ اسی طرح کلاس روم اور درس و تدریس میں بیٹھا شخص بھی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔ تاہم مستقل جگہ اپنے لیے خاص کرلینا اور دوسروں کو، نہ ہوتے ہوئے بھی اس کی جگہ خالی رکھنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1138 سے ماخوذ ہے۔