الادب المفرد
كتاب الرسائل— كتاب الرسائل
بَابُ: كَيْفَ يُجِيبُ إِذَا قِيلَ لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ باب: جب کسی سے حال دریافت کیا جائے تو کیسے جواب دے؟
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُهَاجِرٍ هُوَ الصَّائِغُ، قَالَ: كُنْتُ أَجْلِسُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمٍ مِنَ الْحَضْرَمِيِّينَ، فَكَانَ إِذَا قِيلَ لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ: لا نُشْرِكُ بِاللَّهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مہاجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک بھاری جسامت والے حضرمی صحابی کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ جب انہیں کہا جاتا کہ کس حال میں صبح ہوئی؟ تو وہ جواب دیتے: ہم اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ دین و ایمان کی سلامتی ہی اصل سلامتی ہے۔ دنیاوی معاملات اور جسمانی صحت ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر انسان شرک و معصیت سے بچا ہوا ہے تو اسے اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ بیماری جلد یا بہ دیر ختم ہو جائے گی۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ دین و ایمان کی سلامتی ہی اصل سلامتی ہے۔ دنیاوی معاملات اور جسمانی صحت ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر انسان شرک و معصیت سے بچا ہوا ہے تو اسے اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ بیماری جلد یا بہ دیر ختم ہو جائے گی۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1134 سے ماخوذ ہے۔