الادب المفرد
كتاب الرسائل— كتاب الرسائل
بَابُ: كَيْفَ يُجِيبُ إِذَا قِيلَ لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ باب: جب کسی سے حال دریافت کیا جائے تو کیسے جواب دے؟
حدیث نمبر: 1133
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ: ”بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَشْهَدُوا جَنَازَةً، وَلَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ نے صبح کس حال میں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر کے ساتھ صبح ہوئی، میں ایسے لوگوں میں سے ہوں جو نہ کسی جنازے میں حاضر ہوئے نہ کسی مریض کی عیادت کی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر طرح کی خیریت ہے نہ کوئی فوت ہوا ہے کہ اس کے جنازے میں جاتے اور نہ کوئی بیمار ہے جس کی عیادت کی ضرورت پیش آتی۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر طرح کی خیریت ہے نہ کوئی فوت ہوا ہے کہ اس کے جنازے میں جاتے اور نہ کوئی بیمار ہے جس کی عیادت کی ضرورت پیش آتی۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1133 سے ماخوذ ہے۔