حدیث نمبر: 1132
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَرَدَّ السَّلاَمَ، ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ: كَيْفَ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا الَّذِي أَرَدْتُ مِنْكَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا: انہیں ایک آدمی نے سلام کہا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر اس آدمی سے پوچھا: تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: میں آپ کے سامنے اللہ کی تعریف کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سے یہی جواب چاہتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جب کسی سے پوچھا جائے کہ تمہارا کیا حال ہے تو اسے اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے۔ اس طرح اسے پوری تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب کسی سے پوچھا جائے کہ تمہارا کیا حال ہے تو اسے اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے۔ اس طرح اسے پوری تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1132 سے ماخوذ ہے۔