الادب المفرد
كتاب الرسائل— كتاب الرسائل
بَابُ: بِمَنْ يَبْدَأُ فِي الْكِتَابِ؟ باب: خط کے شروع میں کس کا نام لکھائے
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - وَكَتَبَ إِلَيْهِ صَاحِبُهُ: مِنْ فُلاَنٍ إِلَى فُلانٍ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا - پھر لمبی حدیث ذکر کی - اور اس نے اپنے ساتھی کی طرف یوں لکھا: فلاں کی طرف سے فلاں کے نام۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری میں معلق اور ایک دوسری سند سے موصول دونوں انداز میں موجود ہے۔ (دیکھیں فتح الباري:۴؍ ۴۷۰ و ۳؍ ۳۶۳۔ بخاري:۲۰۶۳)
اس روایت کی سند عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری میں معلق اور ایک دوسری سند سے موصول دونوں انداز میں موجود ہے۔ (دیکھیں فتح الباري:۴؍ ۴۷۰ و ۳؍ ۳۶۳۔ بخاري:۲۰۶۳)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1128 سے ماخوذ ہے۔