الادب المفرد
كتاب الرسائل— كتاب الرسائل
بَابُ صَدْرِ الرَّسَائِلِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ باب: خطوط کی ابتدا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کی جائے
حدیث نمبر: 1123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْحَسَنَ عَنْ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ قَالَ: تِلْكَ صُدُورُ الرَّسَائِلِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو مسعود جریری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حسن بصری رحمہ اللہ سے «بسم الله» پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ خطوط کے شروع میں بھی لکھنی چاہیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ ہر اچھے کام کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنا چاہیے۔ یہ خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہر اچھے کام کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنا چاہیے۔ یہ خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1123 سے ماخوذ ہے۔