حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسَائِلَ مِنْ رَسَائِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلَّمَا انْقَضَتْ قِصَّةٌ قَالَ: ”أَمَّا بَعْدُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط میں سے کئی خط دیکھے کہ جب کوئی بات ختم ہوتی، وہاں اما بعد لکھا ہوتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح خطبہ میں اما بعد کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے اسی طرح تحریر میں بھی اما بعد کا لفظ استعمال کرنا مسنون ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح خطبہ میں اما بعد کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے اسی طرح تحریر میں بھی اما بعد کا لفظ استعمال کرنا مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1121 سے ماخوذ ہے۔