حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ‏:‏ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ‏:‏ سَلاَمٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ، وَأُقِرُّ لَكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، فِيمَا اسْتَطَعْتُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کی بیعت کی تو انہیں لکھا: «بسم الله الرحمن الرحیم»، امیر المومنین عبدالملک کے نام عبداللہ بن عمر کی طرف سے۔ آپ پر سلام، چنانچہ میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں، اور اقرار کرتا ہوں کہ حسبِ استطاعت آپ کے احکام سنوں گا، اور اطاعت بجالاؤں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہوں گے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الرسائل / حدیث: 1119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأحكام : 7205»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ خط کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنا چاہیے اور اس کے بعد آدمی کو اختیار ہے کہ پہلے اپنا تعارف کروائے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خط لکھتے تھے اور یہ زیادہ بہتر ہے یا پہلے مخاطب کا نام لکھے اور ایسا کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کیا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1119 سے ماخوذ ہے۔