حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ قَالَتْ‏:‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ - وَأَنَا فِي حِجْرِهَا - وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهَا مِنْ كُلِّ مِصْرٍ، فَكَانَ الشُّيُوخُ يَنْتَابُونِي لِمَكَانِي مِنْهَا، وَكَانَ الشَّبَابُ يَتَأَخَّوْنِي فَيُهْدُونَ إِلَيَّ، وَيَكْتُبُونَ إِلَيَّ مِنَ الأَمْصَارِ، فَأَقُولُ لِعَائِشَةَ‏:‏ يَا خَالَةُ، هَذَا كِتَابُ فُلاَنٍ وَهَدِيَّتُهُ، فَتَقُولُ لِي عَائِشَةُ‏:‏ أَيْ بُنَيَّةُ، فَأَجِيبِيهِ وَأَثِيبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَكِ ثَوَابٌ أَعْطَيْتُكِ، فَقَالَتْ‏:‏ فَتُعْطِينِي‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عائشہ بنت طلحہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا اور میں ان کی زیرِ پرورش تھی۔ ان کے پاس دنیا کے اطراف و اکناف سے لوگ آتے تھے۔ بزرگ حضرات باری باری میرے پاس آتے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں ان کی خادمہ ہوں، اور نوجوان طالب علم بہنوں کی طرح میرا قصد کرتے اور مجھے ہدیے ارسال کرتے، اور مختلف شہروں سے مجھے خط لکھتے تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتاتی۔ خالہ جان یہ فلاں کا خط اور تحفہ ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مجھے فرماتیں: بیٹی! خط کا جواب دے دو اور ہدیے کا بدلہ بھی دے دو، اور اگر تمہارے پاس عطیے کا بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو میں دے دیتی ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر وہ مجھے دے دیتیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الرسائل / حدیث: 1118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ علمی مقاصد کے لیے خواتین سے خط و کتاب بھی جائز ہے بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح خواتین جواب بھی دے سکتی ہیں۔
(۲) اس روایت سے قرون اولیٰ میں حصول علم کے شوق اور اہل علم کی اہمیت اور عزت و توقیر کا پتہ بھی چلتا ہے۔
(۳) علماء اور اساتذہ کے گھر تحائف بھیجنا مستحسن امر ہے اور اہل علم کو بھی چاہیے کہ وہ بدلے میں تحائف دیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1118 سے ماخوذ ہے۔