الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ: كَيْفَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى الْفُرْسِ؟ باب: اہلِ فارس (ذمیوں) سے اجازت لینے کا طریقہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَلاَءِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، مَوْلَى أُمِّ مِسْكِينٍ بِنْتِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: أَرْسَلَتْنِي مَوْلاَتِي إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَجَاءَ مَعِي، فَلَمَّا قَامَ بِالْبَابِ فقَالَ: أَنْدَرَايِيمْ؟ قَالَتْ: أَنْدَرُونْ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّهُ يَأْتِينِي الزَّوْرُ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَأَتَحَدَّثُ؟ قَالَ: تَحَدَّثِي مَا لَمْ تُوتِرِي، فَإِذَا أَوْتَرْتِ فَلاَ حَدِيثَ بَعْدَ الْوِتْرِ.ام مسکین رحمہا اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبدالملک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے میری مالکہ نے بھیجا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر لاؤں، چنانچہ وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھا: کیا میں اندر آجاؤں؟ انہوں نے کہا: آپ اندر آ سکتے ہیں۔ پھر اس نے مسئلہ پوچھا: اے ابو ہریرہ! میرے پاس عشاء کے بعد مہمان آجاتے ہیں تو کیا میں ان سے باتیں کر سکتی ہوں؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت تک باتیں کرتی رہو جب تک وتر نہ پڑھ لو، جب وتر پڑھ لو تو پھر وتروں کے بعد گفتگو نہ کرو۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس روایت کی سند ضعیف ہے اس کے ابو عبدالملک راوی مجہول ہے اس لیے اس سے مسائل کا استنباط درست نہیں۔