الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ الاسْتِئْذَانِ فِي حَوَانِيتِ السُّوقِ باب: بازار کی دکانوں میں اجازت طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1099
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْتَأْذِنُ فِي ظُلَّةِ الْبَزَّازِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کپڑا فروشوں کے سائبان میں جانے کی اجازت طلب کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اگر دکان کھلی ہو اور کوئی چیز خریدنا مقصود ہو تو بغیر اجازت طلب کیے اندر داخل ہونا جائز ہے، اگر محض کھڑا ہونا مقصود ہو تو پھر اجازت طلب کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے گاہک متاثر نہ ہوں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ جن کا کیش وغیرہ سامنے ہو ان سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے کیش کا راز فاش نہ ہو۔
اگر دکان کھلی ہو اور کوئی چیز خریدنا مقصود ہو تو بغیر اجازت طلب کیے اندر داخل ہونا جائز ہے، اگر محض کھڑا ہونا مقصود ہو تو پھر اجازت طلب کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے گاہک متاثر نہ ہوں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ جن کا کیش وغیرہ سامنے ہو ان سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے کیش کا راز فاش نہ ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1099 سے ماخوذ ہے۔