الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ فَضْلِ مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلامٍ باب: اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَكَةً طَيْبَةً. قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ إِلا يُوجِبُهُ قَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [النساء: 86].ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں «السلام» کہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ پھر فرمایا: میری رائے میں ارشادِ باری تعالیٰ: «وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا» [سورہ النساء: 86] ”جب تمہیں سلام کہا جائے تو اس سے احسن انداز میں یا اسی طرح ہی جواب دو۔“ کے مطابق سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔
اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1095 سے ماخوذ ہے۔