الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ مَنْ قَالَ: مَنْ ذَا؟ فَقَالَ: أَنَا باب: جس نے کون ہے کے جواب میں کہا: میں
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ، فَقَالَ: ”مَنْ هَذَا؟“ فَقُلْتُ: أَنَا بُرَيْدَةُ، جُعِلْتُ فِدَاكَ، فَقَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف گئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص (ابو موسیٰ) کو یقیناً داؤد علیہ السلام والی خوش الحانی دی گئی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جب پوچھا جائے کہ تم کون ہو؟ تو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نام اور پتہ بتانا چاہیے۔ یہ کہنا کہ میں، میں ہوں، بے معنی سی بات ہے جسے آپ نے ناپسند فرمایا۔
دوسری حدیث میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ نیز آل داؤد سے خود سیدنا داؤد علیہ السلام مراد ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب پوچھا جائے کہ تم کون ہو؟ تو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نام اور پتہ بتانا چاہیے۔ یہ کہنا کہ میں، میں ہوں، بے معنی سی بات ہے جسے آپ نے ناپسند فرمایا۔
دوسری حدیث میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ نیز آل داؤد سے خود سیدنا داؤد علیہ السلام مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1087 سے ماخوذ ہے۔