حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَفْهَمَنِي بَعْضَهُ عَنْهُ أَبُو حَفْصِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ‏:‏ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَتْحِ بِلَبَنٍ وَجِدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ‏:‏ يَعْنِي الْبَقْلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي، وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، فَقَالَ‏:‏ ”ارْجِعْ، فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ‏؟‏“، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا عَنْ كَلَدَةَ، وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے فتح مکہ کے موقع پر دودھ، بھنا ہوا ہرن کا بچہ اور کچھ ترکاریاں دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا। نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی مکہ کے بالائی حصے میں تھے۔ میں سلام اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور کہو: «السلام علیکم»! کیا میں اندر آجاؤں؟“ یہ صفوان کے مسلمان ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ عمرو بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ امیہ بن صفوان نے بھی مجھے واقعہ سیدنا کلدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ میں نے سیدنا کلدہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الاستئذان / حدیث: 1081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 5176 و الترمذي : 2710 - أنظر الصحيحة : 818»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
گھر میں داخل ہوتے وقت اگر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان ساتھ داخل ہو جاتا ہے اس لیے ایسے شخص کو گھر سے نکل کر دوبارہ اجازت طلب کرنے اور سلام کہہ کر اندر آنے کا حکم ہے۔ جو شخص بغیر سلام کے اندر آئے اسے بیٹھنے نہ دیا جائے بلکہ دوبارہ سلام اور اجازت کے ساتھ اندر آکر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1081 سے ماخوذ ہے۔