حدیث نمبر: 1079
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاهِبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ يَقُولُ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا لِي‏:‏ مَكَانَكَ حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْكَ، فَقَعَدْتُ قَرِيبًا مِنْ بَابِهِ، قَالَ‏:‏ فَخَرَجَ إِلَيَّ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ‏:‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمِنَ الْبَوْلِ هَذَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ مِنَ الْبَوْلِ، أَوْ مِنْ غَيْرِهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو خدام نے مجھ سے کہا: اپنی جگہ رکو وہ یہیں آتے ہیں۔ میں ان کے دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ باہر تشریف لائے اور پانی منگوا کر وضو کیا، پھر اپنے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: امیر المومنین! موزوں پر مسح کرنا پیشاب کرنے کے بعد ہے؟ انہوں نے فرمایا: پیشاب یا کسی بھی دوسرے ناقض وضو سے موزوں پر جائز ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الاستئذان / حدیث: 1079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : رواه الخطيب البغدادي فى الجامع : 167/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مطلب یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر کسی کے دروازے پر انتظار کرنا پڑے تو دروازے کے سامنے نہیں بلکہ ایک طرف ہوکر بیٹھنا چاہیے۔
(۲) سید معاویہ نے استفسار کیا کہ کیا موزوں پر مسح صرف بول (پیشاب)سے جائز ہے یا پاخانہ وغیرہ دیگر نواقض سے بھی کیا جاسکتا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہر ناقض وضو سے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ دیگر احادیث میں یہ شرط ذکر ہوئی ہے کہ موزے یا جرابیں وضو کرکے پہنے ہوں، نیز غسل واجب ہونے کی صورت میں انہیں اتار کر غسل کرنا فرض ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1079 سے ماخوذ ہے۔