الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ: الاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ باب: اجازت لینا نظر ہی کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَدَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، فَأَخْرَجَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کے سوراخ میں سے جھانکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نیزہ (برچھا) اس کی طرف سیدھا کیا تو اس آدمی نے اپنا سر باہر نکال لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مذکورہ بالا دونوں بابوں میں اجازت مانگنے کا طریقہ کار بتایا گیا ہے کہ دروازے سے ایک طرف ہوکر سلام کہا جائے اور اجازت طلب کرے، پھر ایک طرف ہوکر کھڑا ہو، سامنے کھڑا نہ ہو۔
(۲) اجازت لینے کا مقصد یہ ہے کہ اندر نظر نہ پڑے اور پردہ متاثر نہ ہو۔ جب جھانک لیا تو اجازت کا مقصد ہی ختم ہوگیا اس لیے آپ نے اس سے سختی سے منع کیا اور ایسے کرنے والے کی اگر گھر والے آنکھ پھوڑ دیں تو بھی ان پر کوئی گناہ نہیں۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی چار دیواری بنانا مسنون ہے۔ اگر کسی گھر کی چار دیواری نہ ہو اور کسی کی نظر پڑ جائے تو یہ غلطی گھر والوں کی ہوگی۔ نیز مذکورہ روایات سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرت مند ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
(۱)مذکورہ بالا دونوں بابوں میں اجازت مانگنے کا طریقہ کار بتایا گیا ہے کہ دروازے سے ایک طرف ہوکر سلام کہا جائے اور اجازت طلب کرے، پھر ایک طرف ہوکر کھڑا ہو، سامنے کھڑا نہ ہو۔
(۲) اجازت لینے کا مقصد یہ ہے کہ اندر نظر نہ پڑے اور پردہ متاثر نہ ہو۔ جب جھانک لیا تو اجازت کا مقصد ہی ختم ہوگیا اس لیے آپ نے اس سے سختی سے منع کیا اور ایسے کرنے والے کی اگر گھر والے آنکھ پھوڑ دیں تو بھی ان پر کوئی گناہ نہیں۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی چار دیواری بنانا مسنون ہے۔ اگر کسی گھر کی چار دیواری نہ ہو اور کسی کی نظر پڑ جائے تو یہ غلطی گھر والوں کی ہوگی۔ نیز مذکورہ روایات سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرت مند ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1072 سے ماخوذ ہے۔