حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ إِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَقُلِ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ‏:‏ لَا، حَتَّى يَأْتِيَ بِالْمِفْتَاحِ‏:‏ السَّلامِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی داخل ہو اور «السلام علیکم» نہ کہے تو اسے کہو: نہیں، یہاں تک کہ تم چابی لاؤ، یعنی «السلام علیکم» کہو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الاستئذان / حدیث: 1067
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الخطيب فى الجامع لأخلاق الراوي : 226»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی کے گھر جانے کا ادب یہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہا جائے اور پھر اجازت طلب کی جائے۔ پہلے اجازت طلب کرنا درست نہیں اور نہ اجازت سلام کے قائم مقام ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1067 سے ماخوذ ہے۔