حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَلَمْ يُؤَذَنْ لَهُ - وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولاً - فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ‏:‏ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ‏؟‏ إِيذَنُوا لَهُ، قِيلَ‏:‏ قَدْ رَجَعَ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ‏:‏ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ، فَقَالَ‏:‏ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا‏:‏ لاَ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلاَّ أَصْغَرُنَا‏:‏ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ عُمَرُ‏:‏ أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏؟‏ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى التِّجَارَةِ‏.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے کسی مشغولیت کی وجہ سے اجازت نہ دی، تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس آگئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو کہا: مجھے عبداللہ بن قیس کی آواز آئی تھی، اسے اندر آنے کی اجازت دو۔ عرض کیا گیا: وہ واپس چلے گئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے کہا: ہمیں اسی بات کا حکم دیا جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس بات پر کوئی دلیل (گواہ) لاؤ (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے)، چنانچہ وہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہاری اس بات کی گواہی ہمارے چھوٹے میاں ابو سعید خدری ہی دیں گے، چنانچہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر مخفی رہ گیا، مجھے بازار کی خرید و فروخت نے غافل کر دیا، یعنی تجارت کے لیے جانے کی وجہ سے مجھ پر مخفی رہ گیا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الاستئذان / حدیث: 1065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب البيوع : 2062 ، 6245 ، 8353 و مسلم : 2153 و أبوداؤد : 5182»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تین دفعہ اجازت طلب کرنے کے بعد واپس آگئے اور اس کی وجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ تین دفعہ اجازت طلب کرنے پر اگر تمہیں اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ۔ (صحیح البخاري، ح:۵۸۹۱)
(۲) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ جب انہیں حدیث کا علم ہوگیا تو فوراً تسلیم کرکے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے صحت اور ضعف کی چھان بین کرنی ضروری ہے۔
(۴) اس حدیث سے خبر واحد کے حجت نہ ہونے کی دلیل لینا حماقت ہے کیونکہ ایک سے زیادہ لوگ بیان کریں تب بھی وہ خبر واحد ہی رہتی ہے جب تک اس میں متواتر کی شرطیں نہ پائی جائیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو کی بات قبول کرلی تو خبر واحد کا قبول کرنا ثابت ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مزید تائید لانے کے لیے اس لیے کہا تاکہ لوگوں کو حدیث کے حوالے سے محتاط انداز اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1065 سے ماخوذ ہے۔