الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى أَبِيهِ باب: باپ سے اجازت لے کر اس کے پاس جانا
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أُمِّي، فَدَخَلَ فَاتَّبَعْتُهُ، فَالْتَفَتَ فَدَفَعَ فِي صَدْرِي حَتَّى أَقْعَدَنِي عَلَى اسْتِي، قَالَ: أَتَدْخُلُ بِغَيْرِ إِذْنٍ؟.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ اپنی والدہ کے پاس گیا۔ والد محترم داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہو گیا، انہوں نے میری طرف مڑ کر دیکھا تو میرے سینے میں روز سے دھکا مارا، حتی کہ میں پیچھے جا گرا، پھر کہا: کیا تم بغیر اجازت کے اندر آتے ہو؟
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں لیث راوی ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں لیث راوی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1061 سے ماخوذ ہے۔