الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّهِ باب: ماں سے اجازت مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ نَذِيرٍ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ حُذَيْفَةَ فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي؟ فَقَالَ: إِنْ لَمْ تَسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا رَأَيْتَ مَا تَكْرَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مسلم بن نذیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا میں اپنی والدہ کے پاس جانے کی بھی اجازت طلب کروں؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں لو گے تو تم اس کو اس حالت میں دیکھو گے جس حالت میں اسے دیکھنا ناپسند کرتے ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا دونوں روایات کا مطلب یہ ہے کہ والدہ سے بھی اجازت لے کر اس کے پاس جانا چاہیے۔ اگر اجازت نہ لی تو ممکن ہے کہ والدہ اس حالت میں ہو جس میں وہ اسے دیکھنا پسند نہیں کرتا، مثلاً وہ کپڑے بدل رہی ہے اور یہ اچانک پہنچ جائے تو ایسی حالت میں اسے خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ اجازت لے کر اندر جائے۔
مذکورہ بالا دونوں روایات کا مطلب یہ ہے کہ والدہ سے بھی اجازت لے کر اس کے پاس جانا چاہیے۔ اگر اجازت نہ لی تو ممکن ہے کہ والدہ اس حالت میں ہو جس میں وہ اسے دیکھنا پسند نہیں کرتا، مثلاً وہ کپڑے بدل رہی ہے اور یہ اچانک پہنچ جائے تو ایسی حالت میں اسے خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ اجازت لے کر اندر جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1060 سے ماخوذ ہے۔