الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ قَوْلِ اللهِ: ﴿وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ﴾ [النور: 59] باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ”اور جب بچے بالغ ہو جائیں تو ......“ کا بیان
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَلَغَ بَعْضُ وَلَدِهِ الْحُلُمَ عَزَلَهُ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ إِلا بِإِذْنٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان کا کوئی بچہ بلوغت کو پہنچ جاتا تو اس کو الگ کر دیتے، اور وہ اجازت کے بغیر اندر داخل نہیں ہوتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بچے جب سمجھ دار ہو جائیں تو انہیں یہ تعلیم دینی چاہیے کہ والدین کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوں، خصوصاً دوپہر کے وقت، عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے اس کا ضرور اہتمام کریں۔
بچے جب سمجھ دار ہو جائیں تو انہیں یہ تعلیم دینی چاہیے کہ والدین کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوں، خصوصاً دوپہر کے وقت، عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے اس کا ضرور اہتمام کریں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1058 سے ماخوذ ہے۔