الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النور: 58] باب: غلاموں کو اندر آنے کی اجازت لینی چاہیے
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النور: 58]، قَالَ: هِيَ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ارشادِ باری تعالیٰ: ”غلاموں کو چاہیے کہ اندر آنے کے لیے اجازت لیں۔“ یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورتوں کے لیے نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن یمان اور لیث بن ابی سلیم دو راوی ضعیف ہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن یمان اور لیث بن ابی سلیم دو راوی ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1057 سے ماخوذ ہے۔