الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ أَكْلِ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ باب: اپنی بیوی کے ساتھ کھانا
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ سَرْجٍ مَوْلَى أُمِّ صَبِيَّةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَهِيَ خَوْلَةُ، وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ ام صبیہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جن کا نام خولہ تھا، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن میں اکٹھا کھایا یا پانی استعمال کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ واقعہ بھی پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، جب مسلمان مرد اور عورتیں ایک ساتھ اکٹھے ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔ (سنن ابي داود، ح:۷۹)
یہ واقعہ بھی پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، جب مسلمان مرد اور عورتیں ایک ساتھ اکٹھے ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔ (سنن ابي داود، ح:۷۹)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1054 سے ماخوذ ہے۔