الادب المفرد
كتاب الاستئذان— كتاب الاستئذان
بَابُ أَكْلِ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ باب: اپنی بیوی کے ساتھ کھانا
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْسًا، فَمَرَّ عُمَرُ، فَدَعَاهُ فَأَكَلَ، فَأَصَابَتْ يَدُهُ إِصْبَعِي، فَقَالَ: حَسِّ، لَوْ أُطَاعُ فَيَكُنَّ مَا رَأَتْكُنَّ عَيْنٌ. فَنَزَلَ الْحِجَابُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کا حلوہ کھا رہی تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا تو وہ بھی کھانے لگے۔ اس دوران ان کا ہاتھ میری انگلی سے مس ہوا تو انہوں نے فرمایا: اوہ، اگر تمہارے بارے میں میری رائے مانی جاتی تو تمہیں کوئی آنکھ بھی نہ دیکھتی۔ اس پر پردے کا حکم نازل ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بیوی اپنے خاوند کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحب اور باعث محبت و مودت ہے۔ تاہم نزول حجاب کے بعد اب غیر محرم کے ساتھ ایک ساتھ کھانا درست نہیں۔
بیوی اپنے خاوند کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحب اور باعث محبت و مودت ہے۔ تاہم نزول حجاب کے بعد اب غیر محرم کے ساتھ ایک ساتھ کھانا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1053 سے ماخوذ ہے۔